یہ اکیسویں صدی کازمانہ ہےکہ جب ایک طرف توعلم و شعور کی یہ انتہاہے کہ عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے بین الاقوامی ادارےسرگرم عمل ہیں،جارحیت اور جنگ کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہےاوراسلحے کی دوڑ کو نفرت سے دیکھاجاتاہے ۔جبکہ دوسری طرف سرزمین عرب کے عین وسط میں کچھ بدمعاشوں نے ایک بستی پر قبضہ کررکھاہے،انھوں نے بستی کے مقامی لوگوں کو ماردھاڑکر نکال باہر کیاہے اور ارد گرد کی آبادیوں پر اپنا رعب بٹھایاہواہے۔
بیچارےنہتّے لوگ چیخ اور چلّا رہے ہیں لیکن بدمعاشوں کے سامنے ان کی ایک نہیں چل رہی ، وہ اپنے ہی علاقے میں دربدر ہوکر ٹھوکریں کھارہے ہیں۔اب بدمعاشوں کی مزید پیش قدمی جاری ہے اور انھوں نے دیگر کئی بستیوں کو اپنے محاصرے میں لےرکھاہے،ان محصور بستیوں میں سے ایک کو غزّہ کہتے ہیں
۔غزّہ کی شہرت اس وقت بام عروج پر پہنچ گئی جب چند ماہ پہلےان قابض بدمعاشوں نےڈنکے کی چوٹ پر غزّہ کی اینٹ سے اینٹ بجائی، معصوم بچوں کے گوشت کے چیتھڑے ہوا میں اڑائے اور سینکڑوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔۔۔ایسے میں بین الاقوامی میڈیاکی آنکھ خاموش تماشائی بنی رہی،بین الاقوامی سلامتی کے ضامن ادارے کاغذی قرادادوں کی بازی میں مصروف رہے اور بین الاقوامی لیڈربدمعاشوں کے بمبوں کا جواب دھواں دار تقریروں سے دیتے رہے۔یہاں تک کہ غزّہ کے گلی کوچے خون میں نہا گئے اور غزّہ قبرستان میں تبدیل ہوگیا۔اس وقت ہر شخص حیران تھاکہ آخر کیا وجہ ہے۔۔۔ بین الاقوامی آرمی غزّہ کے دفاع کے لئے کیوں نہیں آتی؟بین الاقوامی ادارے اسرائیل جیسی غیرقانونی ریاست کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتے؟بے گناہ فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کے لئے کسی بین الاقوامی پلیٹ فارم سے کوئی آوازبلند کیوں نہیں ہوتی؟لوگوں کو امید تھی کہ بالاخر بین الاقوامی برادری ضرور نوٹس لے گی،فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کیا جائے گا،غزّہ کے محصورین کو بدمعاشوں کے چنگل سے نجات دلائی جائے گی،پھر اسی دوران یوں ہوا کہ چھ جہازوں پر مشتمل ایک بحری بیڑاغزّہ کے محصورین کے لئے غذائی سامان لے کر روانہ ہوا،یہ بحری بیڑہ بین الاقوامی سمندری حدود میں سے گزررہاتھا کہ اسرائیلی بدمعاشوں نے اس بحری قافلے کو بھی اپنے محاصرے میں لےکر۷۰۰امدادی کارکنوں کو گرفتار اور امدادی سامان ضبط کرلیا۔۔۔ایک مرتبہ پھر عالمی برادری بپھری اور کرّہ زمین پر بسنے والے سارے انسانوں کی نگاہیں بین الاقوامی اداروں پر جم گئیں کہ اب کی بار ضرور کچھ نہ کچھ ہوگا، اسرائیل جیسی غیرقانونی اور انسانیت دشمن طاقت کے توڑ کے لئے عالمی برادری مل کر زور لگائے گی۔۔۔سب یہی سوچ رہے تھے کہ اچانک ایک غیر متوقع خبر سب کو سننا پڑی اور وہ یہ تھی کہ۔۔۔نیویارک میں اقوام متحدہ کی ۱۵رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ۱۲ممالک نے ایران پر پابندیوں کے حق میں ووٹ ڈال کر قرارداد نمبر۱۹۲۹پاس کرلی ہے۔جس کے تحت ایران کی چالیس کمپنیوں اور ایرانی ایٹمی مرکز کے سربراہ کو بلیک لسٹ قراردیاگیاہے،ایران کے فوجی اور ایٹمی ،صنعتی اور مالیاتی اداروں کے علاوہ دیگر ۴۱ادارے بھی اب پابندیوں کی زد میں آئے۔ستم بالائے ستم یہ کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ کہاگیاہے کہ وہ ایرانی بینکوں اور فنانس کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی نہ کریں نیز۔۔۔یادرہے کہ اس سارے دورانیے میں سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف قراداد نمبر۱۹۲۹ پاس کرانے میں برطانیہ ،فرانس ،جرمنی اور امریکہ پیش پیش رہےہیں۔انہوں نے یہ سب اس وقت کیا ہےجب اسرائیلی بدمعاشی کے سامنے صرف اور صرف تنہا ایران ڈٹاہواہے اور اسرئیل کئی مرتبہ ایران کو حملے کی دھمکیاں بھی دے چکاہے۔ماضی میں بھی مذکورہ سپرطاقتوں کی آشیربادکے باعث اسرائیل کئی مرتبہ ننگی جارحیّت اور جنگی جرائم کا مرتکب ہوچکاہے ۔جب بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بات ہوتی ہے تومذکورہ طاقتیں اسرائیل کی بلاجواز حمایت کرتی ہیں اور ان کی بلامشروط اور بلاجواز حمایت کے تلے ہی اسرائیلی بدمعاشی پھل پھول رہی ہے۔ اس بارایران پر پابندیاں لگاکردر اصل اسرائیل کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور ایران پر حملے کے سلسلے میں اسرائیل کی ہمّت بندھائی گئی ہے۔بین الاقوامی سپر پاورز کا یہ رویہ نہ صرف عالم اسلام کے لئے بلکہ پورے عالم بشریت کے لئے خطرے کا باعث ہے۔آج دنیا کا ہر باشعورانسان یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا آج انسانی تہذیب علوم و فنون کی بلندیوں کونہیں چھو رہی اورانسان خاک سے اٹھ کر آفاق پر کمندیں نہیں ڈال رہا،آج انسان تو انسان ہیں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور سیمینار منعقد کرائے جاتے ہیں،یہ اکیسویں صدی کازمانہ ہےکہ جب ایک طرف توعلم و شعور کی یہ انتہاہے کہ عالمی امن کو یقینی بنانے کے لئے بین الاقوامی ادارےسرگرم عمل ہیں اور دوسری طرف بے شعوری کی یہ حدہے کہ اسرائیل جیسی غیرقانونی ریاست کی مسلسل پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔کیا علم و شعور کے اس دور میں بڑی طاقتیں اپنی نادانی اور حماقت کا پتہ نہیں دے رہیں۔اگر پوری عالمی برادری نے مل کر طاقت کے نشے میں چور بڑی طاقتوں کی حماقت کے خلاف آوازبلند نہ کی تو پھر بہت جلد اس سکوت کا خمیازہ پورے عالم بشریت کو بھگتنا پڑے گا۔
......
/110